نہ کاؤنٹر، نہ لمبی قطاریں؛ دبئی ایئرپورٹ پر موبائل فون سے انٹری اور ایگزٹ

دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کے لیے جدید سفری سہولت متعارف، ’کلک اینڈ ٹریول‘ کے ذریعے چند سیکنڈز میں انٹری اور ایگزٹ کا عمل مکمل ہوگا

دبئی نے ہوائی سفر کو مزید تیز، آسان اور جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایئرپورٹس پر مسافروں کی انٹری اور ایگزٹ کے لیے جدید موبائل سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئی سہولت کے ذریعے مسافروں کو روایتی پاسپورٹ کنٹرول کاؤنٹرز پر طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت کم ہوگی، جبکہ ایئرپورٹ کا عملہ جدید موبائل ڈیوائسز کی مدد سے مسافروں کے سفری معاملات ان کی موجودہ جگہ پر ہی مکمل کرسکے گا۔

اس جدید نظام کو ’کلک اینڈ ٹریول‘ کا نام دیا گیا ہے۔ دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA Dubai) کے تحت شروع کیے گئے اس نظام کا مقصد مسافروں کے لیے پاسپورٹ کنٹرول کے عمل کو زیادہ تیز، لچکدار اور مؤثر بنانا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق نئے نظام کے تحت مسافر کی شناخت، سفری دستاویزات کی جانچ اور دیگر متعلقہ کارروائی تقریباً 12 سے 15 سیکنڈ میں مکمل کی جاسکتی ہے۔ اس نظام میں موبائل ڈیوائسز کو متعلقہ سرکاری نظام اور ڈیٹا بیس سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق اور چہرے کی شناخت جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جارہی ہے۔

نہ کاؤنٹر، نہ لمبی قطاریں؛ دبئی ایئرپورٹ پر موبائل فون سے انٹری اور ایگزٹ

’کلک اینڈ ٹریول‘ سسٹم کیا ہے؟

’کلک اینڈ ٹریول‘ بنیادی طور پر ایک موبائل پاسپورٹ سروس ہے جس کے ذریعے پاسپورٹ کنٹرول کے اہلکار مخصوص حالات میں مقررہ کاؤنٹر کے بجائے مسافر تک پہنچ کر اس کی سفری کارروائی مکمل کرسکتے ہیں۔

روایتی نظام میں مسافر کو پاسپورٹ کنٹرول کے لیے مخصوص کاؤنٹر تک جانا پڑتا ہے، قطار میں انتظار کرنا ہوتا ہے اور پھر اپنی باری آنے پر متعلقہ افسر کے سامنے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات پیش کرنا ہوتی ہیں۔ نئے نظام میں اس عمل کو زیادہ متحرک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اب تربیت یافتہ اہلکار جدید ہینڈ ہیلڈ ڈیوائس کے ذریعے مسافر کی شناخت اور سفری دستاویزات کی جانچ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ضرورت کے مطابق سروس مسافر کے قریب پہنچ جاتی ہے، جس سے ایئرپورٹ پر لوگوں کی نقل و حرکت کو بہتر انداز میں منظم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

صرف موبائل ڈیوائس سے کیسے ہوگی تصدیق؟

نئے نظام کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جدید موبائل ڈیوائسز کو دبئی کے متعلقہ سرکاری نظام اور ڈیٹا بیس سے منسلک کیا گیا ہے۔

ان ڈیوائسز کے ذریعے مسافر کی سفری دستاویزات کو چیک کیا جاسکتا ہے، جبکہ بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے شناخت کی جانچ بھی کی جاتی ہے۔ الیکٹرانک پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کے سفری ڈیٹا کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے پڑھا جاسکتا ہے۔

اس کے نتیجے میں پاسپورٹ کنٹرول کے پورے عمل کو زیادہ تیز بنانے میں مدد ملتی ہے۔ حکام کے مطابق جدید نظام کے ذریعے شناخت کی تصدیق اور متعلقہ کارروائی تقریباً 12 سے 15 سیکنڈ میں مکمل کی جاسکتی ہے۔

مسافروں کو لمبی قطاروں سے نجات ملنے کی امید

دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے دبئی ایئرپورٹ پر روزانہ بڑی تعداد میں مسافر آتے اور جاتے ہیں۔ رش کے اوقات میں پاسپورٹ کنٹرول اور دیگر سفری مراحل پر مسافروں کی تعداد بڑھنے سے انتظار کا وقت بھی بڑھ سکتا ہے۔

’کلک اینڈ ٹریول‘ سسٹم کا ایک اہم مقصد ایسے ہی حالات میں مسافروں کی روانی کو بہتر بنانا ہے۔

نئے نظام کے ذریعے اہلکار مخصوص صورتحال میں مقررہ کاؤنٹر سے باہر رہتے ہوئے بھی مسافروں کی کارروائی مکمل کرسکیں گے۔ اس سے ایئرپورٹ انتظامیہ کو زیادہ رش والے علاقوں میں اضافی سہولت فراہم کرنے اور مسافروں کو مختلف مقامات پر بہتر انداز میں تقسیم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

رش کے اوقات میں خصوصی فائدہ

دبئی کی جانب سے اس سہولت کو خاص طور پر رش کے اوقات اور ہنگامی حالات میں مسافروں کی بہتر مینجمنٹ کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔

جب ایئرپورٹ پر کسی خاص وقت میں مسافروں کی تعداد معمول سے زیادہ ہوجائے تو مقررہ پاسپورٹ کنٹرول پوائنٹس پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں موبائل پاسپورٹ سروس ایئرپورٹ حکام کو اضافی لچک فراہم کرتی ہے۔

اہلکار ضرورت کے مطابق ان مقامات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں مسافروں کا دباؤ زیادہ ہو اور وہاں ہی ضروری کارروائی مکمل کرسکتے ہیں۔

اس طرح ایئرپورٹ انتظامیہ کے پاس مسافروں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے ایک اضافی جدید ذریعہ دستیاب ہوگا۔

12 سے 15 سیکنڈ میں کارروائی مکمل کرنے کا دعویٰ

اس جدید سروس کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کی رفتار شامل ہے۔ حکام کے مطابق ’کلک اینڈ ٹریول‘ کے ذریعے مسافر کی شناخت اور سفری دستاویزات کی تصدیق سمیت متعلقہ کارروائی تقریباً 12 سے 15 سیکنڈ میں مکمل کی جاسکتی ہے۔

اتنے مختصر وقت میں کارروائی مکمل ہونے کی صلاحیت دبئی ایئرپورٹ کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہاں مسافروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔

اگر بڑی تعداد میں مسافروں کی کارروائی کم وقت میں مکمل ہو تو اس سے نہ صرف انتظار کا وقت کم ہوسکتا ہے بلکہ ایئرپورٹ کے مختلف حصوں میں مسافروں کے دباؤ کو بھی بہتر انداز میں کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

آزمائشی مرحلے میں ہزاروں معاملات مکمل

’کلک اینڈ ٹریول‘ سروس کو مکمل طور پر متعارف کرانے سے قبل اس کا آزمائشی استعمال بھی کیا گیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق مئی 2026 سے 31 اگست 2026 تک اس سروس کے ذریعے 31,373 معاملات مکمل کیے گئے۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام کو عملی ماحول میں استعمال کرکے اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ہزاروں معاملات کی کامیاب تکمیل سے اس سروس کی عملی تیاری اور مستقبل میں اس کے مزید استعمال کی گنجائش ظاہر ہوتی ہے۔

کن مسافروں کے لیے دستیاب ہوگی؟

دبئی حکام کے مطابق روانگی کے حوالے سے یہ سہولت متحدہ عرب امارات کے شہریوں، رہائشیوں اور دیگر مسافروں سمیت تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہے۔

البتہ آمد کے معاملے میں ابتدائی مرحلے میں اس کا دائرہ متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں تک رکھا گیا ہے، جبکہ مستقبل میں آپریشنل ضرورت کے مطابق اس سروس کو مزید مسافروں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظام ایک ہی وقت میں تمام مسافروں کے لیے روایتی پاسپورٹ کنٹرول کا مکمل متبادل نہیں بلکہ مخصوص حالات میں ایک اضافی اور موبائل سہولت کے طور پر کام کرے گا۔

چہرے کی شناخت اور بائیومیٹرک ٹیکنالوجی

نئے نظام میں جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مسافر کی شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے۔

چہرے کی شناخت اور دیگر بائیومیٹرک ذرائع جدید ہوائی اڈوں پر سفری عمل کو تیز بنانے کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں استعمال کیے جارہے ہیں۔

دبئی نے بھی اپنے ڈیجیٹل ایئرپورٹ کے تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے موبائل ڈیوائسز کو سرکاری نظام کے ساتھ مربوط کیا ہے تاکہ اہلکار ضرورت کے وقت مسافر کی شناخت اور سفری معلومات کو محفوظ انداز میں چیک کرسکیں۔

ای پاسپورٹ کی فوری اسکیننگ

نظام کی ایک اور اہم خصوصیت الیکٹرانک پاسپورٹ کی اسکیننگ ہے۔ جدید ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے ذریعے ای پاسپورٹ کو کم وقت میں پڑھنے اور متعلقہ معلومات کی تصدیق کرنے کی صلاحیت فراہم کی گئی ہے۔

اس سے پاسپورٹ کنٹرول کے روایتی عمل میں لگنے والا وقت کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نہ کاؤنٹر، نہ لمبی قطاریں؛ دبئی ایئرپورٹ پر موبائل فون سے انٹری اور ایگزٹ

خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایئرپورٹ پر مسافروں کا رش زیادہ ہو، تیز رفتار دستاویز اسکیننگ اور شناخت کی تصدیق پورے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے میں کردار ادا کرسکتی ہے۔

سرکاری ڈیٹا بیس سے محفوظ رابطہ

مسافروں کی معلومات کی تصدیق کے لیے ’کلک اینڈ ٹریول‘ سسٹم دبئی کے متعلقہ سرکاری نظام اور ڈیٹا بیس سے منسلک ہے۔

اس محفوظ رابطے کے ذریعے اہلکار مسافر کی معلومات کو چیک اور ضروری کارروائی موقع پر ہی مکمل کرسکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام میں سیکیورٹی اور کارکردگی دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ یعنی مقصد صرف رفتار بڑھانا نہیں بلکہ مسافروں کی شناخت اور سفری دستاویزات کی تصدیق کو محفوظ طریقے سے انجام دینا بھی ہے۔

دبئی کا ڈیجیٹل ایئرپورٹ کا وژن

دبئی گزشتہ کئی برسوں سے اپنے ہوائی اڈوں پر ڈیجیٹل اور خودکار ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھا رہا ہے۔

نئے ’کلک اینڈ ٹریول‘ نظام کو بھی اسی وسیع منصوبے کا حصہ سمجھا جارہا ہے جس کا مقصد دبئی ایئرپورٹس کو زیادہ ڈیجیٹل، خودکار اور مسافر دوست بنانا ہے۔

اس نظام میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ مسافر کو ہر سروس کے لیے لازمی طور پر کسی مخصوص کاؤنٹر تک جانے کے بجائے بعض حالات میں سروس خود مسافر تک پہنچائی جاسکتی ہے۔

یہ تصور روایتی ایئرپورٹ سروس کے مقابلے میں مختلف انداز پیش کرتا ہے، کیونکہ اس میں مسافر اور سروس کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مسافروں کے تجربے میں بہتری کی توقع

ایئرپورٹ پر مسافروں کا تجربہ صرف پرواز کے معیار سے نہیں بلکہ چیک اِن، سیکیورٹی، پاسپورٹ کنٹرول اور بورڈنگ سمیت مختلف مراحل سے تشکیل پاتا ہے۔

اگر کسی مسافر کو طویل وقت تک قطار میں کھڑا رہنا پڑے تو اس کا مجموعی سفری تجربہ متاثر ہوسکتا ہے۔ اسی لیے دنیا بھر کے بڑے ایئرپورٹس ٹیکنالوجی کی مدد سے مسافروں کے انتظار کا وقت کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

دبئی کا نیا موبائل پاسپورٹ سسٹم بھی اسی مقصد کے تحت متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے مخصوص حالات میں مسافر کو کاؤنٹر تک جانے کے بجائے متعلقہ افسر مسافر تک پہنچ سکتا ہے۔

ایئرپورٹ انتظامیہ کے لیے بھی فائدہ

اس سسٹم کا فائدہ صرف مسافروں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ایئرپورٹ انتظامیہ کو بھی اس سے زیادہ لچک حاصل ہوگی۔

اگر کسی مخصوص مقام پر مسافروں کا دباؤ زیادہ ہوجائے تو انتظامیہ موبائل سروس کے ذریعے اضافی کارروائی کی صلاحیت وہاں منتقل کرسکتی ہے۔

اس طرح مختلف مقامات پر موجود عملے اور وسائل کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ نظام مسافروں کی روانی کو بہتر بنانے، انتظار کے مقامات کم کرنے اور آپریشنل دباؤ سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔

نہ کاؤنٹر، نہ لمبی قطاریں؛ دبئی ایئرپورٹ پر موبائل فون سے انٹری اور ایگزٹ

مستقبل میں مزید موبائل سروسز کا امکان

دبئی حکام صرف انٹری اور ایگزٹ کے عمل تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ مستقبل میں موبائل ڈیوائسز کے ذریعے مزید ایئرپورٹ سروسز فراہم کرنے کے امکانات بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔

متعلقہ حکام کے مطابق اضافی موبائل سروسز کو منظور شدہ آپریشنل اور سیکیورٹی ضروریات کے مطابق مستقبل میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دبئی ایئرپورٹ پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ آنے والے وقت میں مزید وسیع ہوسکتا ہے۔

مسافروں کے لیے کیا بدلے گا؟

عام مسافر کے لیے اس نظام کی سب سے بڑی اہمیت انتظار کے عمل میں ممکنہ کمی ہے۔ اگر رش کے دوران موبائل پاسپورٹ سروس استعمال کی جائے تو بعض مسافروں کو روایتی قطاروں سے گزرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ تیز رفتار دستاویز اسکیننگ، بائیومیٹرک تصدیق اور موبائل ڈیوائسز کے استعمال سے سفری کارروائی کو زیادہ آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم مسافروں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نئی سہولت کا استعمال آپریشنل حالات، سیکیورٹی ضروریات اور متعلقہ حکام کے طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹ کو مزید جدید بنانے کی جانب قدم

’کلک اینڈ ٹریول‘ نظام دبئی کی جانب سے ایئرپورٹ کے سفری عمل کو جدید بنانے کی کوششوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔

اس نظام میں جدید موبائل ٹیکنالوجی، بائیومیٹرک شناخت، الیکٹرانک پاسپورٹ ریڈنگ اور محفوظ سرکاری ڈیٹا رابطے کو یکجا کیا گیا ہے۔

مقصد یہ ہے کہ مسافروں کو کم وقت میں محفوظ اور مؤثر سروس فراہم کی جائے اور رش کے دوران ایئرپورٹ انتظامیہ کو مسافروں کی آمد و رفت کو بہتر انداز میں منظم کرنے کے لیے اضافی سہولت حاصل ہو۔

نتیجہ

دبئی ایئرپورٹ پر متعارف کرایا گیا ’کلک اینڈ ٹریول‘ سسٹم مستقبل کے ڈیجیٹل سفری نظام کی ایک مثال قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے ذریعے روایتی پاسپورٹ کنٹرول کاؤنٹرز پر انحصار کم کرتے ہوئے موبائل ڈیوائسز کے ذریعے مسافروں کی شناخت اور سفری کارروائی مکمل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق یہ عمل تقریباً 12 سے 15 سیکنڈ میں مکمل کیا جاسکتا ہے، جبکہ مئی سے اگست 2026 کے آزمائشی مرحلے میں 31 ہزار سے زائد معاملات مکمل کیے جاچکے ہیں۔

نئے نظام کا بنیادی مقصد مسافروں کے انتظار کا وقت کم کرنا، رش کو بہتر انداز میں منظم کرنا اور دبئی ایئرپورٹ پر زیادہ تیز، محفوظ اور جدید سفری تجربہ فراہم کرنا ہے۔

یہ اقدام اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ دبئی مستقبل کے ہوائی سفر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور موبائل سروسز کے استعمال کو مزید بڑھانے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر اس نظام کو وسیع پیمانے پر کامیابی سے نافذ کیا جاتا ہے تو آنے والے برسوں میں ایئرپورٹ پر روایتی کاؤنٹرز اور طویل قطاروں کے بجائے مسافر کو اس کی جگہ پر ہی زیادہ سے زیادہ خدمات فراہم کرنے کا تصور مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top